حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 24 جنوری "تعلیم کا عالمی دن" کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: آج عالمی یوم تعلیم ہے مگر آج کے یوم کو بھی فقط بیانات تک ہی مختص کیاگیا ، علمی میدان میں کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایاجاسکاجس کی واضح ترین مثال خود حکومتی اعدادو شمار ہیں، اڑھائی کروڑ بچوں کا تعلیم سے محروم ہونا، اسلام آباد جیسے شہر میں ایک لاکھ کے قریب بچو ں کا تعلیمی اداروں سے باہر ہونا تشویشناک ہے، جہالت تمام مسائل کی جڑ ہے، تیز ترین دور میں ایسی سست رفتار شرح خواندگی کسی المیہ سے کم نہیں، دنیا آج یوم تعلیم منا رہی ہے مگر مظلوم فلسطینی اپنے برباد گھروں اور تعلیمی اداروں کو نہ صرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ ظالمانہ انداز میں انہیں ان کے بنیادی حقوق محروم کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا: جہالت تمام مسائل کی جڑ ہے، اسی کے سبب معاشرے مختلف مسائل و آلام کا شکار ہوتے ہیں، تعلیم سب کےلئے لازم، تعلیم کو حملوں سے بچانے کاعالمی دن ضرور منایا جائے مگر جس صہیون نے عالمی استعمار و سامراج کی پشت پناہی سے فلسطین خصوصاً غزہ میں عبادت گاہوں سمیت تعلیمی اداروں کو تباہ کر دیا، ٹیچرز کے ساتھ طالب علم بچوں تک کو نہ بخشا افسوس اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے ان حملوں کو روکنے سے قاصر رہے۔
قائد ملت جعفریہ نے پاکستان میں تعلیمی معیار کے ساتھ سست رفتار شرح خواندگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ایک طرف جس انداز میں تعلیمی نظام چلایا جارہاہے خود اس پر نہ صرف سوالات اٹھتے ہیں بلکہ کچھ عرصہ قبل حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق تقریباً دوکروڑ اور 50لاکھ کے قریب بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں ، اسلام آباد جیسے شہر میں 1لاکھ کے قریب بچوں کو سکول جانے کی سہولت میسر نہیں ایسے تیزترین ٹیکنالوجی کے دور میں 65 فیصد کے قریب شرح خواندگی قابل قدر نہیں بلکہ قابل تشویش ہے جس کےلئے لازم تھا کہ بیانات کی بجائے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جاتا اور انقلابی اقدامات اٹھائے جاتے ۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امن اور ترقی کے لیے تعلیم کے کردار کو منانے کے لیے 24 جنوری کو "تعلیم کا عالمی دن" منانے کا اعلان کیا۔ 3 دسمبر 2018ء کو منعقدہ اجلاس میں قرارداد نمبر 73/25 کے ذریعے 24 جنوری کو "عالمی یوم تعلیم" منانے کا فیصلہ ہوا۔ یوں 24 جنوری 2019ء کو پہلا عالمی یوم تعلیم منایا گیا۔ اس دن کا مقصد تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ معیاری تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی حکومت کا فرض ہے۔









آپ کا تبصرہ